ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / بینکوں میں اثاثہ ٹیکس دہندوں سے بدسلوکی نہ کی جائے,ورنہ بی بی ایم پی بینکوں سے اپنی رقم نکال لے گی: گنا شیکھر

بینکوں میں اثاثہ ٹیکس دہندوں سے بدسلوکی نہ کی جائے,ورنہ بی بی ایم پی بینکوں سے اپنی رقم نکال لے گی: گنا شیکھر

Fri, 06 Jan 2017 22:29:42    S.O. News Service

بنگلور:6/جنوری(ایس او نیوز) اثاثہ ٹیکس ادا کرنے کیلئے بینکوں کا رخ کرنے والے شہریوں کے ساتھ بینک افسران نے اگر بدتمیزی کی تو ایسے بینکوں سے بی بی ایم پی اپنی ڈپازٹ نکال لے گی اور ساتھ ہی ان بینکوں سے مالی لین دین ختم کردیا جائے گا۔یہ تنبیہہ برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر نے کی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اثاثہ ٹیکس ادا کرنے کیلئے آنے والے شہریوں کے ساتھ تعاون کرکے بینک افسران شہر کی ترقی میں بی بی ایم پی کا ہاتھ بٹائیں۔ آج بی بی ایم پی دفتر میں وپرو کمپنی کی طرف سے 19 کروڑ روپیوں کا بقیہ اثاثہ ٹیکس ادا کرنے کیلئے کمپنی کے وائس چیرمین رگھو نندن کی طرف سے چیک وصول کرنے کے بعد گنا شیکھر نے بتایاکہ وپرو افسران کے ساتھ اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے دو مرتبہ میٹنگ کی گئی اور اس ٹیکس کی ادائیگی کیلئے گذارش کی گئی تھی، اب ان لوگوں نے مکمل رقم 19 کروڑ روپے ادا کردئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اثاثہ ٹیکس ادا کرنے کیلئے بینکوں کا رخ کرنے والے شہریوں کے ساتھ بینک عملہ اور افسران کی بدتمیزی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات کو دیکھتے ہوئے کینرا بینک، سنٹرل بینک، ایچ ڈی ایف سی بینک اور دیگر بینکوں کے افسران کی ایک میٹنگ طلب کی گئی ہے اس میٹنگ میں افسران کو تنبیہہ کی جائے گی کہ اثاثہ ٹیکس ادا کرنے کیلئے آنے والوں کے ساتھ اچھا رویہ اپنایا جائے، بصورت دیگر ان بینکوں میں بی بی ایم پی کی طرف سے جمع کی گئی کروڑوں روپیوں کی رقم نکال لی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی کا زیادہ تر لین دین کینرا بینک میں ہوتا ہے، اس بینک میں بھی اثاثہ ٹیکس دہندوں کے ساتھ بدسلوکی کی شکایات موصول ہوئی ہیں،اگر کینرا بینک نے بھی راہ راست اختیارنہ کی تو اس بینک سے بھی لین دین ختم کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی بی ایم پی کو باگ منے ٹیک پارک اور دیگر بہت بڑی جائیدادوں کی طرف سے اثاثہ ٹیکس باقی ہے، اثاثہ ٹیکس کی وصولی کیلئے ان کے خلاف کارروائی کے خلاف ان لوگوں نے عدالت سے اسٹے حاصل کرنے کی کوشش شروع کی تھی، جسے دیکھتے ہوئے بی بی ایم پی نے کیویٹ درج کردیا ہے۔ اگلے پندرہ دنوں کے اندر 70 سے زائد بڑے ٹیک پارکوں اور 50 سے زائد شاپنگ مالس کے علاوہ سینکڑوں بڑی عمارتوں کا سروے کیا جائے گا اور ان کی زمین کے مطابق اثاثہ ٹیکس کی وصولی کی جائے گی۔ اس طریقے سے ”خود اندازہ لگائے“ اثاثہ ٹیکس اسکیم کے ذریعہ بی بی ایم پی کو جو دھوکہ دہی کی گئی تھی اس کی اصلاح کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اب تک بی بی ایم پی نے 18سو کروڑ روپیوں کا اثاثہ ٹیکس وصول کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابل180 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ڈیولپمنٹ فیس کو اگر شامل کرلیا جائے تو رواں سال 270 کروڑ روپیوں کا افزود ٹیکس وصول ہوا ہے۔ 


Share: